پیر, فروری 9, 2026
  • رابطہ کریں
  • کچھ ہمارے بارے میں
کیف ادب
  • سرورق
  • بچوں کی دنیا
    • All
    • بچوں کی کہانیاں
    سفید کبوتری  – تحریر: زکریا تامر  ​-     ترجمہ: رفیع الزماں زبیری

    سفید کبوتری – تحریر: زکریا تامر - ترجمہ: رفیع الزماں زبیری

    دلارا

    دلارا

    گندے بچے کی کہانی

    گندے بچے کی کہانی

    Cute baby girl covered in green blanket.

    فاریہ کی کہانی

    شیر اور چوہا۔۔تحریر : ابوعبدالقدوس محمد یحییٰ

    شیر اور چوہا۔۔تحریر : ابوعبدالقدوس محمد یحییٰ

    Tasty art.

    نیلم چڑیا اور آگ

  • شعر و شاعری
  • شاعر
    • پیرزادہ عاشق کیرانوی
    • حمید ؔعظیم آبادی
    • احمد فراز
    • احمد ندیم قاسمی
    • الطاف حسین حالی
    • پروین شاکر
    • جون ایلیا
    • علامہ اقبال
    • ﺳﺎﻏﺮ ﺻﺪﯾﻘﯽ
    • فیض احمد فیض
  • مصنفین
    • سعادت حسن منٹو
  • تعارفِ کتب
  • آرٹیکلز اور کالم
  • ادب و مزاح
  • کہانیاں
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • بلا عنوان
کیف ادب
  • سرورق
  • بچوں کی دنیا
    • All
    • بچوں کی کہانیاں
    سفید کبوتری  – تحریر: زکریا تامر  ​-     ترجمہ: رفیع الزماں زبیری

    سفید کبوتری – تحریر: زکریا تامر - ترجمہ: رفیع الزماں زبیری

    دلارا

    دلارا

    گندے بچے کی کہانی

    گندے بچے کی کہانی

    Cute baby girl covered in green blanket.

    فاریہ کی کہانی

    شیر اور چوہا۔۔تحریر : ابوعبدالقدوس محمد یحییٰ

    شیر اور چوہا۔۔تحریر : ابوعبدالقدوس محمد یحییٰ

    Tasty art.

    نیلم چڑیا اور آگ

  • شعر و شاعری
  • شاعر
    • پیرزادہ عاشق کیرانوی
    • حمید ؔعظیم آبادی
    • احمد فراز
    • احمد ندیم قاسمی
    • الطاف حسین حالی
    • پروین شاکر
    • جون ایلیا
    • علامہ اقبال
    • ﺳﺎﻏﺮ ﺻﺪﯾﻘﯽ
    • فیض احمد فیض
  • مصنفین
    • سعادت حسن منٹو
  • تعارفِ کتب
  • آرٹیکلز اور کالم
  • ادب و مزاح
  • کہانیاں
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • بلا عنوان
No Result
View All Result
کیف ادب
سرورق ادب و مزاح

پچکا ہوا آدمی

میں: تمھارا نام کیا ہے وہ: اپنا نام تو مجھے یاد نہیں، کیوں کہ مجھ پر زمانے کی

ڈاکٹر پیرزادہ شرَفِ عالم پوسٹ / تحریر ڈاکٹر پیرزادہ شرَفِ عالم
جنوری 5, 2020
مین ادب و مزاح
1 min read
3 1
0
Share on FacebookShare on TwitterShare on WhatsappShare on Pinterest

میں: تمھارا نام کیا ہے
وہ: اپنا نام تو مجھے یاد نہیں، کیوں کہ مجھ پر زمانے کی
وہ وہ افتاد پڑی ہے کہ میں اپنا نام تو کیا، اپنے وجود سے بھی
آگاہ نہیں ہوں۔ اوردن میں کئی بارخود کو ہاتھ لگا کردیکھتا ہوں
کہ میں زندہ بھی ہوں یا نہیں۔ تم چاہو تو مجھے” پچکا ہوا آدمی "
کہہ کر پکارسکتے ہو
میں: پچکا ہواآدمی!یہ کیا بات ہوئی، بھلا آدمی بھی پچکا ہوا ہوتا ہے
میں نے تو آج تک کوئی پچکا ہوا آدمی نہیں دیکھا
وہ: حیرت کی بات ہے تم نے آج تک پچکا ہوا آدمی نہیں دیکھا
اب تو اس دنیا میں ہر طرف پچکے ہوئے آدمی ہی موجودہیں
بلکہ اب آدمی اپنی اصل شکل میں ملتا ہی نہیں۔
اس زمین پر آدمیوں کی ایک ہی قسم باقی بچی ہے
اوروہ ہے پچکا ہوا آدمی
میں: میں تمھاری بات بالکل نہیں سمجھا، کیسی عجیب بات کررہے ہو تم؟
وہ: میرے دوست آدمی پچکتا ہے دباؤ پڑنے سے جیسے گھی کاڈبہ
اتارنے چڑھانے اور رکھنے رکھانے میں کہیں نہ کہیں سے پچک جاتا ہے
ویسے ہی آج کا انسان بھی سماج میں مختلف طرح کے دباؤ تلے
پچکتا چلا جارہاہے۔
میں: اچھا تم سماج کے دباؤ کی بات کررہے ہو
وہ: ہاں یہ سماج کا دباؤ ہی تو ہے جو مجھے اپنی مرضی سے جینے نہیں دیتا
کھل کے کوئی کام کرنے نہیں دیتا
میں: مثلاً
وہ: میری خواہش تھی کہ شاعر اورادیب بنوں، پر میرے گھر والے
مجھے ڈاکٹر، انجینئر بنانا چاہتے تھے، مجھے سنہرے فریم والی سہیلی
پسند تھی تو کہا جہاں ہم چاہیں گے وہاں تمھارا بیاہ ہوگا
میں: پھر تم نے کیاکیا
وہ: وہی جو سب کرتے ہیں، پچک گیا
فرمانبردار اولاد سے تابعدار شوہر کا سفر کب طے ہوا
احساس ہی نہیں ہوا
میں: لیکن شادی کے بعد تو انسان زیادہ خود مختار ہوجاتا ہے
اور وہ خود ایک خاندان کاسربراہ بن جاتا ہے
تب تو تم اپنی خواہش اورمرضی سے جی سکتے تھے
وہ: یہ ادراک تمھیں اس وقت ہوگا
جب تم خود اس تجربے سے گزرو گے
میرے بھائی تب تو آدمی ہمیشہ کے لیے پچک جاتا ہے
کہیں روزگا ر کی مجبوری آڑے آجاتی ہے تو کبھی بیوی بچوں کی
ضرورتیں سر اٹھانے لگتی ہیں
اپنی ذات کے لیے سوچنے کا وقت ہی نہیں ملتا
بقول انور شعورؔ
کٹ گیا فکرِمعاش وفکرِ روزی میں شباب
اس طرح غارت ہوئی فصلِ بہاری عمر کی
میں: میرے دوست اپنے لیے وقت تو اس تمام مصروفیت
کے ساتھ بھی نکل سکتا ہے….
مجھے تو تمھاری باتوں سے منافقت کیُ بو آرہی ہے
وہ: میرے دوست آج کے انسان کی پچکی ہوئی حالت
دراصل منافقت کی ہی ایک شکل ہے
جب ہمارا کوئی کام اٹک جاتا ہے یا ہم کسی معاملے میں
پھنس جاتے ہیں توپھر کیا مذہب، کیا رسولؐ کی محبت
اورکیا سماجی ضابطے اورتقاضے
سب کو پس پشت ڈال کرہم فوراً پچک جاتے ہیں
میں: یعنی تم یہ کہنا چاہ رہے ہو کہ ہم اپنے ذرا سے وقتی مفاد
کے لیے ہر طرح کی اخلاقیات کو بالائے طاق رکھ دیتے ہیں
وہ: ہاں شاید تم صحیح سمجھے ہو
میں: لیکن کبھی کبھی ایسا کرنا مجبوری بھی تو بن جاتا ہے
وہ: مجبوری اورعادت میں بڑا فرق ہوتاہے
اورجیسا تم نے کہا کہ مجبور آدمی کبھی کبھی ہوتا ہے،
مگر عادت اس کی ذات کا حصہ بن جاتی ہے
آج ہم جوکچھ کرتے نظر آتے ہیں ہو وہ ہماری مجبوری نہیں
عادت بن چکا ہے، اسی لیے میں کہتا ہوں
آج کے انسان کا وجو دمکمل طور پرپچک چکا ہے
اور اس نے اپنی ذات کو اتار کر خود پراتنے خول
چڑھالیے ہیں کہ وہ ہر حالت میں پچکا ہو ا نظر آتا ہے

ڈاکٹر پیرزادہ شرَفِ عالم

ڈاکٹر پیرزادہ شرَفِ عالم

ڈاکٹر پیرزادہ شرَفِ عالم کا تعلق کراچی سے ہے اور کراچی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی اور ایم اے اردو(گولڈ میڈلسٹ) ہیں۔ وہ مزاح نگاری، کونٹینٹ رائٹنگ، شاعری، ترجمہ نگاری کرتے ہیں_ اخلاقی اور سماجی موضوعات کو اپنا عنوان بنانا پسند کرتے ہیں۔

متعلقہ Posts

درس وفا –  ابو الکلام آزاد
ابو الکلام آزاد

درس وفا – ابو الکلام آزاد

پوسٹ / تحریر سید فرمان غنی
اگست 4, 2020
چھت سے گرنے والی – تین افسانے – عبداللہ جاوید
عبداللہ جاوید

ہونے کا درخت – تین افسانے – عبداللہ جاوید

پوسٹ / تحریر سید فرمان غنی
جون 8, 2020
چھت سے گرنے والی – تین افسانے – عبداللہ جاوید
عبداللہ جاوید

آگہی کاسفر – تین افسانے – عبداللہ جاوید

پوسٹ / تحریر سید فرمان غنی
جون 6, 2020
چھت سے گرنے والی – تین افسانے – عبداللہ جاوید
عبداللہ جاوید

چھت سے گرنے والی – تین افسانے – عبداللہ جاوید

پوسٹ / تحریر سید فرمان غنی
جون 5, 2020
  • کچھ ہمارے بارے میں
  • ہماری پالیسی
  • رابطہ کریں
....

© 2020 کیف ادب -

No Result
View All Result
  • رابطہ کریں
  • کچھ ہمارے بارے میں

© 2020 کیف ادب -

Login to your account below

Forgotten Password?

Fill the forms bellow to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In