مجھے لے چلو،مجھے لے چلو،بھائی صاحب،بھائی صاحب،سبز کاہی اوور کوٹ میں ملبوس پاگل کی صدائیں روزانہ کی طرح آج شام بھی چوک پر بلندہورہی تھیں،کچھ آوارہ مزاج اورشرارتی بچے حسب معمول اس کے گرد منڈلا رہے تھے اورکچھ بزرگ انھیں ایسا کرنے سے روک رہے تھے۔یہ شخص نہ صرف ذہنی طور پر معذور تھابلکہ چلتے ہوئے پائوں بھی نہیں اٹھا سکتا تھااور پائوں زمین پر گھسٹ گھسٹ کر آگے بڑھتا تھا۔اسی لیے سڑک پر گزرتے ہوئے موٹر سائیکل اور سائیکل سواروںکو مجھے لے چلو اوربھائی صاحب کہہ کر پکارتا اوردس بیس میں کوئی ایک شخص اس پر ترس کھا کے اس کے کہنے کے مطابق کسی مسجد کے دروازے یا کسی بازار میں اسے چھوڑ دیتا جہاں وہ مجھے لے چلو اوربھائی صاحب کے ساتھ اپنی صدا میں ــ’’ایک روپیہ دو ‘‘کا اضافہ بھی کرلیتاچند روز قبل مسجد میں نماز عصر کے دوران بڑی ہی تکلیف دہ صورت حال کا سامنا کرنا پڑاجب ایک صاحب نے اس کی صدا پر غریب کو انتہائی کرخت آواز میں ڈانٹا ’’تمیز نہیں ہے، سارے نمازیوں کی نماز خراب کردی‘‘لیکن انھوں نے یہ خیال نہیں کیا کہ ان کی تیزآواز میں چیخنے سے کتنے نمازیوںکی نماز خراب ہوئی ہوگی۔
مجھے اس پاگل سے بہت ہم دردی تھی ،اسی لیے ہر شام صرف اسے دیکھنے کے لیے چوک پر چلا آتااورجب تک کوئی رحم دل شخص اسے اپنی سواری پر بٹھا کر نہیں لے جاتا اس کی حرکات وسکنات پر غور کرتا رہتا۔اس کے حالات کے بارے میں مختلف لوگوں سے دریافت کرنے پر پتہ چلا کہ یہ پڑھا لکھا شخص ہے ،کسی حادثے میں اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھا ہے۔آج کے پڑھے لکھے انسان کے رویے اورخدو خال کا مشاہدہ کیا تو رائے یہ بنی کہ ذہنی توازن کھونے کے لیے کسی حادثے کا شکار ہونا ضروری نہیں،صرف پڑھا لکھا ہونا ہی کافی ہے۔لہٰذا اس پاگل کے حوالے سے یہ بات میرے اطمینان کا سبب بنی کہ یہ شخص پڑھالکھا ہے اور کوئی حادثہ اس کی اس حالت کی وجہ ہے۔
گزری سردیوں میں دسمبر کی ایک سرد شام کو وہ پاگل ایک نوکھے انداز میں نظر آیا،ہاتھ میں پلاسٹک کا گلاس لیے ہرگزرنے والے کواپنی جانب متوجہ کررہا تھا’’جنتی گلاس،جنتی گلاس، اس میں ایک روپیہ ڈالو اورجنت میں پہنچ جائو‘‘اسے اس روپ میں دیکھنے کے بعد مجھے خوشی ہوئی کہ یہ شخص پاگل پنے میں بھی اپنی عقل سے کام لے رہاہے اوریہ یقین بھی ہوچلا کہ یہ شخص پڑھا لکھا ہونے کے ساتھ ساتھ فن کارانہ صلاحیتوں کا بھی حا مل ہے۔میں اس شخص کو بہت قریب سے دیکھنا چاہتا تھا ،اسے کی آنکھوں میں جھانکنا چاہتا تھا،اسے چھونا چاہتا تھاکیوں کہ مجھے اس سے محبت ہوگئی تھی جس کی وجہ اس کو وہ علم تھا جس کا اظہار وہ پاگل پن میں بھی بھرپور انداز میں کررہا تھا ۔کل شام بھیک مانگتے ہوئے تیز رفتار گاڑی تلے روندا گیا اوراس کے جنتی گلاس میں زندگی کی بھیک کوئی نہ ڈال سکا،شاید یہی خدا کی مرضی تھی،لیکن مجھے افسوس تھا تو بس یہی کہ اب بستی میں ایک بھی پڑھا لکھاآدمی نہیں رہا تھا۔کیوں کہ پوری بستی میں وہ ہی ایک پاگل تھا۔
کئی سال گزرنے کے بعد آج بھی میں جب شام کو چوک سے گزرتا ہوں تو کانوں میں اس کی صدا گونجنے لگتی ہے ـ’’مجھے لے چلو،بھائی صاحب، جنتی گلاس،مجھے لے چلو،بھائی صاحب،جنتی گلاس۔۔۔۔










