اتوار, اکتوبر 11, 2026
  • رابطہ کریں
  • کچھ ہمارے بارے میں
کیف ادب
  • سرورق
  • بچوں کی دنیا
    • All
    • بچوں کی کہانیاں
    سفید کبوتری  – تحریر: زکریا تامر  ​-     ترجمہ: رفیع الزماں زبیری

    سفید کبوتری – تحریر: زکریا تامر ​- ترجمہ: رفیع الزماں زبیری

    دلارا

    دلارا

    گندے بچے کی کہانی

    گندے بچے کی کہانی

    Cute baby girl covered in green blanket.

    فاریہ کی کہانی

    شیر اور چوہا۔۔تحریر : ابوعبدالقدوس محمد یحییٰ

    شیر اور چوہا۔۔تحریر : ابوعبدالقدوس محمد یحییٰ

    Tasty art.

    نیلم چڑیا اور آگ

  • شعر و شاعری
  • شاعر
    • پیرزادہ عاشق کیرانوی
    • حمید ؔعظیم آبادی
    • احمد فراز
    • احمد ندیم قاسمی
    • الطاف حسین حالی
    • پروین شاکر
    • جون ایلیا
    • علامہ اقبال
    • ﺳﺎﻏﺮ ﺻﺪﯾﻘﯽ
    • فیض احمد فیض
  • مصنفین
    • سعادت حسن منٹو
  • تعارفِ کتب
  • آرٹیکلز اور کالم
  • ادب و مزاح
  • کہانیاں
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • بلا عنوان
کیف ادب
  • سرورق
  • بچوں کی دنیا
    • All
    • بچوں کی کہانیاں
    سفید کبوتری  – تحریر: زکریا تامر  ​-     ترجمہ: رفیع الزماں زبیری

    سفید کبوتری – تحریر: زکریا تامر ​- ترجمہ: رفیع الزماں زبیری

    دلارا

    دلارا

    گندے بچے کی کہانی

    گندے بچے کی کہانی

    Cute baby girl covered in green blanket.

    فاریہ کی کہانی

    شیر اور چوہا۔۔تحریر : ابوعبدالقدوس محمد یحییٰ

    شیر اور چوہا۔۔تحریر : ابوعبدالقدوس محمد یحییٰ

    Tasty art.

    نیلم چڑیا اور آگ

  • شعر و شاعری
  • شاعر
    • پیرزادہ عاشق کیرانوی
    • حمید ؔعظیم آبادی
    • احمد فراز
    • احمد ندیم قاسمی
    • الطاف حسین حالی
    • پروین شاکر
    • جون ایلیا
    • علامہ اقبال
    • ﺳﺎﻏﺮ ﺻﺪﯾﻘﯽ
    • فیض احمد فیض
  • مصنفین
    • سعادت حسن منٹو
  • تعارفِ کتب
  • آرٹیکلز اور کالم
  • ادب و مزاح
  • کہانیاں
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • بلا عنوان
No Result
View All Result
کیف ادب
سرورق آرٹیکلز اور کالم

ایک فرانسیسی مسلم خاتون سے گفتگو

ڈاکٹر پیرزادہ شرَفِ عالم پوسٹ / تحریر ڈاکٹر پیرزادہ شرَفِ عالم
مارچ 31, 2021
مین آرٹیکلز اور کالم, پیرزادہ شرَفِ عالم
1 min read
516 6
0
Share on FacebookShare on TwitterShare on WhatsappShare on Pinterest

(اس گفتگومیں ’وہ‘ فرانسیسی خاتون ہیں)
میں: آپ فرانس میں کب سے مقیم ہیں؟ اور اس عرصے میں آپ نے کن تبدیلیوں کا مشاہدہ کیا ہے؟
وہ: کم و بیش سولہ سال ہوچکے ہیں اور میں پیرس کے مضافات میں رہائش پزیر ہوں۔ جہاں تک بات یہاں آنے والی تبدیلیوں کی ہے تو فرانس میں یہ عمل یورپ کے دیگر خطوں کے مقابلے میں قدرے سست ہے۔ اصل میں فرانسیسیوں کی سوچ بہت سطحی ہے، خاص طور پر مسلمانوں کے حوالے سے۔ ان سے مسلمان عورتوں کے سر پر حجاب بالکل بھی برداشت نہیں ہوتا۔ ہائی اسکول تک تو لڑکیوں کے لیے حجاب کرنے کی اجازت ہی نہیں ہے۔ دوران ملازمت اور عوامی مقامات پر بھی حجاب نہیں لگانے دیا جاتا، یہاں تک کہ کوئی مسلمان عورت حجاب لگا کر کسی ملازمت کے لیے انٹرویو دینے کی بھی اہل نہیں ہوتی، طوعاً وکرہاً انٹرویو ہوبھی جائے پر ملازمت تو کسی صورت نہیں دی جاتی۔ زیادہ تر مسلم خواتین کو ماسی کے علاوہ کسی دوسرے کام کے لیے ترجیح ہی نہیں دی جاتی۔ اس بات کو آپ یوں سمجھ سکتے ہیں کہ اگرآپ مسلمان ہیں تو معاشرے میں تیسرے درجے کے شہری ہیں اور اگر آپ حجاب پہنتی ہیں اور آپ کے مرد ڈاڑھی رکھتے ہیں تو آپ کے ساتھ اتنا زیادہ امتیازی سلوک اختیار کیا جائے گا کہ آپ خود کو کسی بھی درجے میں شمار نہیں کرسکتے۔ یعنی اگر آپ مسلمان ہیں تو فرانس میں آپ تھرڈ کلاس ہیں اور حجاب اور ڈاڑھی کے پابند ہیں تو آپ کی کوئی کلاس نہیں۔ یہ فرانس میں لوگوں کا ایک عام رویہ ہے جو اب قانون کی شکل اختیار کرتا جار ہا ہے۔
میں: دکانوں اور بازاروں میں آپ کو کس طرح کی صورت حال کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟
وہ: بات دراصل یہ ہے کہ فرانس کے لوگ بہت زیادہ حسن پرست واقع ہوئے ہیں، دوسرے لفظوں میں آپ اِسے بے ہودگی کا نام بھی دے سکتے ہیں۔ دکانوں پر خریدو فروخت کے معاملے میں ان کے انداز میں یہ عنصر بہت نمایاں ہے۔ ایک بنی ٹھنی دوشیزہ کے ساتھ بڑی خندہ پیشانی سے پیش آتے ہیں لیکن اگر کوئی عام سے حلیے میں ہے اور اگر وہ کوئی مسلم خاتون ہے تو اسے معمولی سا بیکری والا بھی باسی ڈبل روٹی تھما دیتا ہے۔ یہ تو میرے اپنے ساتھ کئی بار ہوا ہے۔
میں: کیا اسکولوں میں آپ کے بچوں کو بھی اسی طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے؟
وہ: یہاں تعلیم کا نظام سب کے لیے یکساں ہے اور حکومت کی نگرانی بہت سخت ہے۔ پاکستان کی طرح کلاس سسٹم نہیں ہے، جہاں غریب کا بچہ امیر کے بچہ کی طرح کسی اچھے اسکول میں تعلیم حاصل کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ مگر اس خوبی کے ساتھ آج کا سب سے بڑا مسئلہ مسلمان بچوں کے ساتھ شروع کیا جانے والا امتیازی سلوک ہے۔ مسلمان بچوں کے لیے شناختی نمبر کا نظام چند دنوں میں شروع کیاجانے والا ہے۔ یعنی اسکول میں مسلمان بچوں کو قیدیوں کی طرح نمبرز الاٹ کرکے گلے میں کارڈز لٹکائے جائیں گے۔
میں: لیکن فرانس اور تمام ہی مغربی ممالک انسانوں کی آزادی کے سب سے بڑے علم بردار سمجھے جاتے ہیں!
وہ: یہ فرانس سمیت ان تمام قوموں کی سب سے بڑی منافقت ہے۔ اظہار ِ رائے کی آزادی اور شخصی احترام کے سارے دعوے ایک ڈھونگ کے سوا کچھ بھی نہیں۔ جس Liberty of Speech کو یہ اپنے لیے جائز سمجھتے ہیں، فرانس میں مسلمانوں کو یہ آزادی حاصل نہیں ہے۔ آپ خود ہی بتائیے یہ کیسا اظہارِ رائے ہے جس سے نہ صرف فرانس بلکہ دنیا کے اربوں مسلمانوں کو شدید اذیت اور کرب سے گزرنا پڑتا ہے۔ اللہ کے رسول ؐ کی ذات مبارک سے مسلمان کتنی عقیدت رکھتے ہیں، ان کے نزدیک مسلمانوں کے مذہبی جذبات کی ذرا برابر بھی اہمیت نہیں۔ یہ ہے مغرب کے منافق معاشرے کی نام نہاد آزادی ٔ اظہار اور شخصی احترام۔
میں: اب مسلمانوں کے حوالے سے جس نئے قانون کے نفاذ کے باتیں ہورہی ہیں، اس کے بارے میںکچھ بتائیے۔
وہ: اس حوالے سے مسلمان اور خاص طور پر پاکستان سے فرانس منتقل ہونے والے مسلمان زیادہ مسائل کا شکار ہوں گے۔ مساجد میں دیے جانے والے خطبوں پر تو پہلے ہی سے سخت چیک رکھا جارہا تھا، اب یہ معاملہ اور بھی سنگین ہوگیا ہے۔ میں یہ سمجھتی ہوں کہ اب اسلام کے خلاف ان کارروائیوں کو ایک سیاسی حربے کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے، جس کا جواز یہ دیا جارہا ہے کہ ہم فرانس کے لبرل تشخص کو بحال رکھنا چاہتے ہیں۔ بالکل اسی طرح جس طرح آج کے ہندوستان میں سیکولر ازم کے نام پر مسلمانوں کو مشقِ ستم بنا کر ہندو ازم کا پرچار پورے زور وشور سے جاری ہے۔ اس کی قریب کی مثال یہ ہے کہ فرانس میں گزشتہ انتخابات میں دکانوں پر رکھے حلال گوشت کو بھی بعض پارٹیوں نے سیاسی فائدے کے لیے ہدف تنقید بنایا۔ یعنی مسلمان تو وہ گوشت بھی نہیں کھاتے جو ہم فرانس والے بخوشی کھا لیتے ہیں۔ جبکہ فرانس میں بیش تر غیر مسلم بھی حلال گوشت کو اس کے صاف ستھرے ہونے کی وجہ سے ترجیح دیتے ہیں۔ یہ میرے اپنے مشاہدے میں بارہا آیا ہے۔ مجھے تو ایسا لگ رہا ہے کہ فرانس میں ’’فرانسیسی اسلام‘‘ کی قانون سازی کی جاچکی ہے اور اس کے عملی نفاذ میں بہت زیادہ دیر نہیں لگے گی۔
میں: آپ کا کیا خیال ہے یہ جو کچھ کیا جارہا ہے، کیا فرانس کی Moral Values کے تناظر میں درست ہے؟
وہ: Morality کا سوال نہ کریں جناب، اخلاقیات کا تو ساری دنیا میں جنازہ نکل چکا ہے۔ رہی بات فرانس کی تو فرانس اس معاملے میں بیش تر ممالک سے کئی ہاتھ آگے ہے۔ عورت کی عریاں تصویر کشی کرنے والا ان کا سب سے بڑا پینٹر ہوتا ہے، کوئی اداکارہ اس وقت تک اپنے فن کی ماہر نہیں ہوسکتی جب تک وہ بے لباسی کو اپنا لباس بنالے۔ اب آپ ہی فیصلہ کیجیے جس معاشرے کی اخلاقی قدروں کی بنیادیں عریانی اور فحاشی ہو وہاں حجاب جیسی پاکیزہ علامت اور اسلامی اقدار کیسے قابل قبول ہوسکتی ہے۔

ڈاکٹر پیرزادہ شرَفِ عالم

ڈاکٹر پیرزادہ شرَفِ عالم

ڈاکٹر پیرزادہ شرَفِ عالم کا تعلق کراچی سے ہے اور کراچی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی اور ایم اے اردو(گولڈ میڈلسٹ) ہیں۔ وہ مزاح نگاری، کونٹینٹ رائٹنگ، شاعری، ترجمہ نگاری کرتے ہیں_ اخلاقی اور سماجی موضوعات کو اپنا عنوان بنانا پسند کرتے ہیں۔

متعلقہ Posts

شکایت کی پٹی
آرٹیکلز اور کالم

شکایت کی پٹی

پوسٹ / تحریر ڈاکٹر پیرزادہ شرَفِ عالم
مئی 4, 2021
دوڑ پیچھے کی طرف، اے گردشِ ایام تو
آرٹیکلز اور کالم

دوڑ پیچھے کی طرف، اے گردشِ ایام تو

پوسٹ / تحریر ڈاکٹر پیرزادہ شرَفِ عالم
اپریل 15, 2021
دوڑ پیچھے کی طرف، اے گردشِ ایام تو
آرٹیکلز اور کالم

ہم نے دریا سے عجب جبر کارشتہ رکھا

پوسٹ / تحریر ڈاکٹر پیرزادہ شرَفِ عالم
اپریل 12, 2021
دوڑ پیچھے کی طرف، اے گردشِ ایام تو
آرٹیکلز اور کالم

آرام کی تلاش

پوسٹ / تحریر ڈاکٹر پیرزادہ شرَفِ عالم
اپریل 3, 2021
  • کچھ ہمارے بارے میں
  • ہماری پالیسی
  • رابطہ کریں
....

© 2020 کیف ادب -

No Result
View All Result
  • رابطہ کریں
  • کچھ ہمارے بارے میں

© 2020 کیف ادب -

Login to your account below

Forgotten Password?

Fill the forms bellow to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In