کبھی آنکھوں میں سُرمہ تھا کبھی بالوں میں شانہ تھا
وہ آرائش میں تھے یاں درہم و برہم زمانہ تھا
غرو رِ حُسن تھا، نا زِ خودی تھا شوق خود بینیِ
نہ آرائش سے مطلب تھا نہ آئینہ نہ شانہ تھا
تما شا دیدنی تھا بزم میں امیدواروں کا
جدھر اُن کی نظر تھی اس طرف سارا زمانہ تھا
خوداپنے حال پر روتے ہیں اک یہ بھی زمانہ ہے
ہنسا کرتے تھے ہم اَوروں پہ اک وہ بھی زمانہ تھا
بُتوں سے جی لگانا تھا اگر تم کو حمید ؔ اپنا
تو دل بھی پہلے ہی سے تم کو پتھر کا بنا نا تھا
حمید ؔ عظیم آبادی










