کم نِگاہوں سے اُسے آج بھی باقی ہے حجاب
آنکھیں جو رکھتے تھے اُن سے کبھی پردا نہ ہوا
کیوں مجھی پر فقط الزام ہیں دنیا بھر کے
کون دل تھا جو ہَوا خواہِ تمنّا نہ ہوا
ہاتھ میں شانہ تھا آئینہ تھا او ر وہ خود تھے
ہائےاُس وقت کوئی دیکھنے والا نہ ہوا
دل کا آنا مِرے قابو کی نہ تھی بات حمیدؔ
ورنہ مَیں بھی یہ سمجھتا ہوں کہ اچھّا نہ ہوا










