جمعرات, مئی 14, 2026
  • رابطہ کریں
  • کچھ ہمارے بارے میں
کیف ادب
  • سرورق
  • بچوں کی دنیا
    • All
    • بچوں کی کہانیاں
    سفید کبوتری  – تحریر: زکریا تامر  ​-     ترجمہ: رفیع الزماں زبیری

    سفید کبوتری – تحریر: زکریا تامر ​- ترجمہ: رفیع الزماں زبیری

    دلارا

    دلارا

    گندے بچے کی کہانی

    گندے بچے کی کہانی

    Cute baby girl covered in green blanket.

    فاریہ کی کہانی

    شیر اور چوہا۔۔تحریر : ابوعبدالقدوس محمد یحییٰ

    شیر اور چوہا۔۔تحریر : ابوعبدالقدوس محمد یحییٰ

    Tasty art.

    نیلم چڑیا اور آگ

  • شعر و شاعری
  • شاعر
    • پیرزادہ عاشق کیرانوی
    • حمید ؔعظیم آبادی
    • احمد فراز
    • احمد ندیم قاسمی
    • الطاف حسین حالی
    • پروین شاکر
    • جون ایلیا
    • علامہ اقبال
    • ﺳﺎﻏﺮ ﺻﺪﯾﻘﯽ
    • فیض احمد فیض
  • مصنفین
    • سعادت حسن منٹو
  • تعارفِ کتب
  • آرٹیکلز اور کالم
  • ادب و مزاح
  • کہانیاں
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • بلا عنوان
کیف ادب
  • سرورق
  • بچوں کی دنیا
    • All
    • بچوں کی کہانیاں
    سفید کبوتری  – تحریر: زکریا تامر  ​-     ترجمہ: رفیع الزماں زبیری

    سفید کبوتری – تحریر: زکریا تامر ​- ترجمہ: رفیع الزماں زبیری

    دلارا

    دلارا

    گندے بچے کی کہانی

    گندے بچے کی کہانی

    Cute baby girl covered in green blanket.

    فاریہ کی کہانی

    شیر اور چوہا۔۔تحریر : ابوعبدالقدوس محمد یحییٰ

    شیر اور چوہا۔۔تحریر : ابوعبدالقدوس محمد یحییٰ

    Tasty art.

    نیلم چڑیا اور آگ

  • شعر و شاعری
  • شاعر
    • پیرزادہ عاشق کیرانوی
    • حمید ؔعظیم آبادی
    • احمد فراز
    • احمد ندیم قاسمی
    • الطاف حسین حالی
    • پروین شاکر
    • جون ایلیا
    • علامہ اقبال
    • ﺳﺎﻏﺮ ﺻﺪﯾﻘﯽ
    • فیض احمد فیض
  • مصنفین
    • سعادت حسن منٹو
  • تعارفِ کتب
  • آرٹیکلز اور کالم
  • ادب و مزاح
  • کہانیاں
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • بلا عنوان
No Result
View All Result
کیف ادب
سرورق بلا عنوان

غالب و شیکسپیر: ایک مطالعہ لا حاصل!

دنیا کا کونسا ایسا کام ہے جسے ہر کوئی بغیر کسی مطلوبہ لیاقت و قابلیت کے بآسانی سرانجام دےسکتا ہے؟

فیضان عثمانی پوسٹ / تحریر فیضان عثمانی
جنوری 23, 2020
مین آرٹیکلز اور کالم, بلا عنوان
4 min read
10 0
0
غالب و شیکسپیر: ایک مطالعہ لا حاصل!
Share on FacebookShare on TwitterShare on WhatsappShare on Pinterest

دنیا کا کونسا ایسا کام ہے جسے ہر کوئی بغیر کسی مطلوبہ لیاقت و قابلیت کے بآسانی سرانجام دےسکتا ہے؟

 تاریغ گواہ ہے دنیا کا سب سے آسان کام وہی ہے جسے آپ قطعاً کرنا نا جانتے ہوں جیسے حکومت کرنا، سیاست پہ تبصرہ کرنا، کرکٹ میچ میں اوپننگ کرنا وغیرہ وغیرہ. ان کاموں کو سرانجام دینے میں اگر ناکامی بھی ہوجاتے تو کوئی آپکو دوش نہیں دے سکتا کیونکہ آپ تو بھولے بادشاہ تھے.  راقم کی طرف سے کی گئی مندرجہ ذیل کاوش بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے.

درحقیقت ہم چچا غالب کے بارے میں ہمیشہ سے اتنا ہی جانتے آئے ہیں کہ وہ ایک شاعرتھے. اس سے زیادہ جاننے کی کبھی ضررورت ہی محسوس نہیں ھوئی کیونکہ شاعر ہونے کا دوسرا مطلب ہی یہی ہے کھ کسی کام کے نہیں. کسی کام کے ہوتے تو پھر شاعر ہی کیوں بنتے؟ چچا غالب کو ہر حال میں شاعر ہی بننا تھا کیوں فقط تیرہ سال کی عمر میں شادی جو کر بیٹھے تھے. زندگی کے ابتدائی دور میں ہی جب رنج و الم کے پہاڑ ٹوٹنے لگیں تو اسکا تخلیقی رد عمل دیوان غالب کی صورت میں ہی سامنے آسکتا ہے. اس لئے ہم چچا کو کسی لحاظ سے قصوروار ٹھیرا نہیں سکتے.

 شیکسپر چونکہ انگریز تھے اسلئے انکے نام سے پہلے ہمیں احتراماً انکل کا لفظ کا اضافہ ضرور کرنا چائیے تاکہ غالب اور شیکسپیر کا موازنہ برابری کی بنیاد پہ کیا جاسکے. آنکل شیکسپیر کے بارے میں ہم نہیں جانتے تھے کھ انہوں نے ابتدائی عمر میں شادی کی تھی یا ادھیڑ عمری میں یا پھر سرے سے شادی کی ضرورت ہی محسوس نہیں ھوئی تھی. یہ نکتہ ہمارے دماغ میں یوں آیا کھ سنا ہے مغرب کا ماحول بہت ایڈوانس ہے. شیکسپیر جیسے ایڈوانس انگریزی لکھنے والے سے ایک ایڈوانس معاشرے میں ایڈوانس حرکات کا  اظہار خارج از امکان نہیں.

انکل و چچا کے درج ذیل موازنے سے قبل یہ بات واضح کرنا بہتر رہے گا کھ ہم سے دونوں ہستیوں کا ہمشہ سے غایبانہ تعارف رہا ہے بلمشافہ ملاقات کا کبھی اتفاق نہیں ہوا. آسان لفظوں میں دونوں کو پڑھنے کی کبھی زحمت ہی نہیں کی اسی لئے اس کام کے لئے ہم سے موزوں کوئی بھی مبصر میسسر نہ آسکتا. ابن انشاء کتاب کو کھولے بغیر اس پر تبصرہ کرنے کے آرٹ سے آگاہ تھے مگر موجودہ دور میں مبصرین و محققین کتاب خریدے بغیر محض شعرا کرام و مصنفین کا نام سن کر ہی ایک سیر حاصل تبصرہ کر ڈالتے ہیں. ہم بھی اسی موجودہ دور کی پیداوار ہیں اور ادبی پیداگیروں کے اس ہزاروں کے مجمع میں کوئی بھلا ہمیں کیسے شناخت کر پاےٴ گا؟

  ویسے بھی جب ہمیش ریشمیا ہندی میں گا سکتا ہے،انضمام الحق انگریزی میں اور صدر زرداری پنجابی میں گلاں کرسکتے ہیں تو پھر ہم کاہے کو پیچھے رہیں؟  لہذا لگے رہو منا بھائی کی طرح ہم بھی لگے رہو فیضو استاد کا نعرہ بلند کرتے ہوےٴ پرانی کتابوں کے جمعہ بازار سے آدھی سے بھی کم قیمت پر غالب اور شیکسپیر کی کتابیں خرید لاے.

 یقین جانیے! شیکسپیر کو سمجھنے کے لئے اتنی بار ڈکشنری نہ کھولی پڑی جتنی بار کلام چچا غالب کو سمجھنے کے لئے لغت. چچا غالب کو اردو اور انکل شیکسپیر کو انگریزی میں پڑھا لیکن کچھہ پلّے نا پڑا. پھر ہم نے اس گتھی کو سلجھانے کے لئے ایک قلابازی کھائی اور دیوان غالب کا انگریزی اور شیکسپیر کے ڈراموں کا اردو ترجمہ لے آےٴ. یہ کچھہ ایسا ہی ہے جیسے نصیبولال کو میڈونا اور دلیر مہدی کو سلما آغا کی آواز میں سنا جاےٴ. مرتا کیا نا کرتا آخر کو دونوں کو ٹھکانے بھی تو لگانا تھا.

غالب و شیکسپیر کے درمیان اس مطالعاتی معرکے میں پھنسے ہم بیچارے نہ اس دنیا کے قابل رہے اور نہ اگلی دنیا کے. آپ اسکو ادبی بد ذوقی کہیے یا قسمت کی ستم ظریفی، ہم تو اس تمام کاروائی کے دوران اس لمحے کو کوستے رہے جب ہم نے دونوں ڈرھیلوں کو پڑھنے کی ٹھانی تھی. بس درگت ہی کچھہ ایسی بنی کھ دن میں تارے نظر آنے لگے اور شب میں شبو کے بنارسی غرارے جو وہ سوکھنے کے لئے اپنی چھت پہ ٹانگ جاتی تھی. اسکے علاوہ نہ کچھہ سجھائی دیا اور نہ ہی کچھہ دکھائی دیا.

قصہ مختصر غالب و شیکسپیر کے مطالعاتی تھپیڑوں کی زد میں پھنسی ہماری ناؤ ہچکولے پہ ہچکولے کھاے جا رہی تھی. کبھی غالب کی ہزاروں خواہشات ہمارا دم نکال رہی ہوتیں اور کبھی شیکسپیر وینس اور اڈونس (Venus and Adonis) میں حسن کی دیوی کا وہ نقشہ کھینچ رہے ہوتے کھ کمبخت اڈونس سے رقابت محسوس ہونے لگتی. کبھی چچا آنکھہ سے لہو ٹپکا کر ہمیں خوفزدہ کررہے ہوتے اور کبھی انکل شیکسپیر کا کنگ لئر (King Lear) ہمیں یوں خونخوار نگاہوں سے گھورتا جیسے ہم نے ہی اسے اسکے محل سے بیدخل کیا ہو. کبھی غالب شب مرگ گھبراۓ رات بھر نیند نا آنے کا ذکر کرکے ہماری نیندیں بھی اڑا دیتے اور کسی وقت شیکسپیر رومیو اور جولیٹ میں دونوں بیچاروں کو اس بیدردی سے زہر دیکر موت کے گھات اتار رہے ہوتے کہ ہمیں تو انکل پر ملک الموت کا بار بار گمان ہوتا.

کبھی غالب کا ہٹ دھرم فریادی بیہودہ کاغذی پیرہن میں پیکر تصویر بنا مستقل ہمارا منھ چڑارہا ہوتا اور کبھی شیکسپیر کے جولیس سیزر میں بھڑکیں مارتا کمبخت بروٹس کا مکروہ چہرہ ہماری بھی روح قبض کرنے کے درپے نظر آتا. کبھی چچا غالب اس عمر میں بھی وفا سے نابلد بےخبر محبوبہ سے وفا کی خوامخواہ کی امید لگاے ہمیں بھی نا امید کرتے نظر آتے اور کبھی انکل شیکسپیر مرچنٹ آف وینس میں سونے، چاندی اور پیتل کی صندوقچی میں حسین و دلفریب پورشیا کی تصویر تک رسائی میں ناکام و نا کامیاب ہوکر ہمیں اپنی غصیلی نگاہوں سے گھورتے دکھائی دیتے گویا کھ ہم کنوارے ہی یونائی ایشوریا کی تصویر جمیل اپنی جیب میں چھپاے بیٹھے ہوں. کبھی دلبرداشتہ غالب کوچہء جاناں سے حسب توقع بےآبرو ہوکر اپنی فخریہ بیدخلی کا ذکر چھیڑ ھوے ہمیں اپنے مستقبل کے ارادوں سے بعض رکھنے کی ناکام کوشش میں مصروف نظر آتے اور کبھی لٹے پٹے شیکسپیر اپنے سانیٹس (sonnets) کے ذریعے دنیا کی بے ثباتی کا راگ چھیڑ کر ہمارے خون کی گردش پر اثر انداز ہورہے ہوتے.

غرض غالب و شیکسپیر نے ملکر اپنی گاڑھی و ثقیل زبان سے ہماری وہ درگت بنا ڈالی کہ ناتواں جسم کے جوڑ جوڑ ہلنے لگے. متاثرین قحط و سیلاب کی مدد کے لئے تو دنیا دوڑی چلی آتی ہے لیکن متاثرین غالب و شیکسپیر کی پرشش کو افسوس کوئی بھی تو نا آیا.

زبان سے قطعاً لاعلمی کے رستے زخموں پر آگہی کا مرھم رکھنے کے لئے بھاگا بھاگا دونوں کی کتابوں کی شرح لیکر آیا. قوی امید تھی کھ اب کی بار ان مفصل و جامع  تشریحات کی بدولت دونوں کی کلیات کے مطالب ہم پر اسطرح کھل کے سامنے آینگے جیسے شادی کے بعد زندگی کے تلخ حقائق کھل کے سامنے آتے ہیں. لیکن افسوس ہمارا یہ اندازہ بھی بلکل غلط ثابت ہوا. یہ کلام غالب کی شرح تھی یا دیوان غالب کا دقیق نثری ترجمہ. معلوم ہوتا تھا یہ شرح بھی غالب نے خود ہی لکھہ ڈالی ہو. یہی حال شیکسپیر کی تشریحات کے ساتھہ بھی تھا.

 ہر دوسرا لفظ ہمارے لئے اجنبی ثابت ہوتا. ادائیگی بھی اتنی مشکل کھ ہماری زبان لڑکھڑانے لگتی لیکن الفاظ تھے کھ اپنے جگہ سے ٹس سے مس نا ہوتے. تلمیحات کی اتنی بھرمار کھ اشعار کو سمجھنے کے لئے گزشتہ پانچ ہزار سال کی تاریغ سے واقفیت ضروری ٹھیری. استعارہ و کنایہ اور تمثیل کی مسلسل تکرار جنکے مطالب تک پہنچنے کی کوشش میں اکثر ہم اپنے گھر کا پتہ بھی بھول جاتے. قافیہ پیمائی و عبارت آرائی کے وہ پرپیچ زینے جن پرچڑھتے چڑھتے ہماری تو سانس ہی پھول جاتی. جگھ جگہ اپنی ہی زبان سے بیگانگی کا احساس شدید تر ہوجاتا اور زبان بھی ایسی کے جو اب متروک ہوچکی. واقعی جب زبان متروک ہوجاتی ہے تو بدزبانی عام ہوجاتی ہے اور یہ بات ہمارے آج کے دور پر صادق آتی ہے.

درحقیقیت کوئی بھی زبان مشکل نہیں ہوتی یہ بات الگ کھ اسکے بولنے والے ہی تن آسان ہوجائیں. شیکسپیر کی زبان سے لا علمی ہمارے لئے اتنی حیران کن نہیں تھی لیکن غالب کی مشکل اردو کا دکھڑا ھم پر کسی صورت میں نہیں جچتا. واقعی ہم نے اپنی مادری زبان کے ساتھہ جو سلوک کیا ہے وو کسی نے اپنی سوتیلی ماں کے ساتھہ بھی نہیں کیا ہوگا.  

خلاف توقع اس بار بھی مطالعے کے دوران ہمارے ساتھہ بڑے عجیب مسائل پیش آئے. غالب کو پڑھنے بیٹھتے تو ہم پر نیند کا غلبہ طاری ہونے لگتا اور شیکسپیر کو سمھجنے بیٹھتے تو ملک شیک پینے کا من کرتا. شروع شروع میں تو ہم نے غالب و شیکسپیر کے ناموں کو بھی غلط پڑھا. مرزا غالب کو میرا کا طالب پڑھا اور ولیم شیکسپیر میں Will you shake bear”?” کا جملہ پنہاں نظر ہوا. دراصل ایسا الٹا سیدھا پڑھنے کی عادت ہمیں شروع ہی سے ہے. مثال کے طور پر "”Shake well before use سے زیادہ پر معنی ہمیں”Sheikh well before use” کا جملہ معلوم ہوتا ہے.اسی طرح شیخی بگھارنے سے بہتر شیخوں کا بگھار دینا اور "میراتھن” کے لفظ کے بیچوں بیچ میرا اور تھن کے درمیان "کا” کا اضافہ ہمیں کافی زیادہ پرلطف معلوم ہوا.

مطالعہ کے بعد پتا چلا کہ شیکسپیر کے ہر ڈرامے میں شعر ہوتا تھا جبکہ غالب کے ہر شعر میں ڈرامہ. تمام تراجم کی ورق گردانی کے بعد شیکسپیر کو سمجھنا اور سمجھانا کوئی مسلہء ہی نہیں رہا. انکل کا کام تو واقعی متاثر کن تھا اور چچا غالب سے بھی ہم پہلے اتنا متاثر کبھی نہ تھے جتنے متاثر انھیں پڑھنے کے بعد ہوئے. بس کیا بتائیں دل ناداں بیٹھتا ہوا محسوس ہوا،آنکھوں سے لہو ٹپکنے لگا، کلیجے میں درد ہوتا ہوا محسوس ہوا، سانسیں اکھڑنے لگیں، کان بجنے لگے اور نازک کھوکھلی پسلیاں سینے میں اندر دھنستی ھوئی محسوس ہوئیں. اس سے پہلے شاید ہی کوئی بندہ بشر شیکسپیر و غالب کے کام سے اتنا متاثر ہوا ہوگا جتنا کھ ہم ھوئے. مختصراً یہ کھ جسم کا کوئی حصّہ ایسا نہ تھا جو متاثر نہ ہوا ہوگا.

ڈھیر پسلی کا یہ مریل وجود تو پہلے ہی غالب کی بھاری بھرکم تشبیہات و پرسوز غنائی شاعری کے بوجهہ تلے دب کے رہ رہ گیا تھا. بچی کچھی صحت شیکسپیر کی سخن ہاے گفتنی اور زور کلام سہہ نہ سکی اور وہ بھی قصّہ پارینہ بن کے رہ گئی.  

اتنے سنگین مطالعے کے کافی دن بعد تک ہم بستر سے لگے رہے اور بستر ہم سے. پہلوان کو بلا کر ہاتھہ پاؤں کی مالش کروائی، گرم پانی کی بھاپ سے کمر کی سکائی کی، نیم کے پتے سونگھے، سینے پر بام ملوایا اور گرما گرم دودھ میں اصلی گھی کا تڑکا دلواکے کئی بار نوش جاں کیا. اس کے ساتھہ ساتھہ اماں جی سے ماتھے پر ٹھنڈے پانی کی گرم پٹیاں رکھوائیں. اماں بیچاری پٹی رکھتے وقت دونوں کل منھوں کو ڈھیرساری نا قابل ذکرالقابات سے بھی نوازتی جاتی جنکی بدولت انکا لخت جگر ایک بے موسم کا لٹکا ہوا بیر بن کے رہ گیا تھا. ان تمام صحت بخش اقدامات کے بعد کہیں جاکے غالب و شیکسپیر کے مطالعہ سے ہونے والے انفیکشن سے نجات ملی اور بےچین طبعیت بحال ہوتی ہوئی محسوس ھوئی.

فیضان عثمانی

فیضان عثمانی

متعلقہ Posts

شکایت کی پٹی
آرٹیکلز اور کالم

شکایت کی پٹی

پوسٹ / تحریر ڈاکٹر پیرزادہ شرَفِ عالم
مئی 4, 2021
دوڑ پیچھے کی طرف، اے گردشِ ایام تو
آرٹیکلز اور کالم

دوڑ پیچھے کی طرف، اے گردشِ ایام تو

پوسٹ / تحریر ڈاکٹر پیرزادہ شرَفِ عالم
اپریل 15, 2021
دوڑ پیچھے کی طرف، اے گردشِ ایام تو
آرٹیکلز اور کالم

ہم نے دریا سے عجب جبر کارشتہ رکھا

پوسٹ / تحریر ڈاکٹر پیرزادہ شرَفِ عالم
اپریل 12, 2021
دوڑ پیچھے کی طرف، اے گردشِ ایام تو
آرٹیکلز اور کالم

آرام کی تلاش

پوسٹ / تحریر ڈاکٹر پیرزادہ شرَفِ عالم
اپریل 3, 2021
  • کچھ ہمارے بارے میں
  • ہماری پالیسی
  • رابطہ کریں
....

© 2020 کیف ادب -

No Result
View All Result
  • رابطہ کریں
  • کچھ ہمارے بارے میں

© 2020 کیف ادب -

Login to your account below

Forgotten Password?

Fill the forms bellow to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In