آگہی کاسفر - اس عجیب و غریب اشتہار کو میں عرصۂ دراز سے پڑھتی آ ئی تھی لیکن اس مرتبہ وہ میرے ذہن کے اس گو شے میں اتر پڑا جہاں سے آدمی کو عمل کی ترغیب ملتی ہے اور میں حرکت میں آ گئی۔ اشتہار کے الفاظ میں نیچے درج کئے دیتی ہوں۔ اس تحریر کی ضرورت یوں پیش آئی کہ اشتہار ایک سفر سے متعلق تھا۔ میں نے سوچا مجھ سے قبل قدیم زمانے سے سفر پر نکلنے والوں میں سے اکثریت نے روزنامچے، یادداشتیں ڈائریاں اور سفرنامے...
آندھی چلی تھی، تیز، بہت تیز۔۔ ہوا کے بدن میں بھوت اتر کر لڑ رہے تھے۔ ہلکے ہلکے جھونکے، جھکّڑوں میں بدل کر، چنگھاڑ چنگھاڑ کر، ایک دوسرے پر وار کرتے، آپس میں گتھم گتھا ہوتے۔۔ اڑ رہے تھے۔ اڑنے کے دوران ہر اس چھوٹی بڑی چیز کو اڑا رہے تھے، جو ان کی زد میں آتی۔ پیڑ، پکھیرو، جھوپڑ، چھپر، چھت، ستون، کھمبے اور آدم زادوں کا پھیلا ہوا کاٹھ کباڑ۔۔جس سمے میں نے اس کو بلندی سے نیچے گرتے دیکھا، آندھی تھم کر غبار کی صورت فضا میں...
ہم تعداد میں چھبیس تھے۔چھبیس متحرک مشینیں ایک مکان میں مقید۔ جہاں ہم صبح سے لے کر شام تک بسکٹوں کے لئے میدہ تیار کرتے۔ ہماری زندان نما کوٹھڑی کی کھڑکیاں اینٹوں اور کوڑا کرکٹ سے بھری ہوئی کھائی کی طرف کھلتیں جن کا نصف حصہ آہنی چادر سے ڈھکا ہوا اور شیشے گردو غبار سے اٹے ہوئے تھے اس لئے سورج کی شعاعیں ہم تک نہ پہنچ سکتیں۔ ہمارے آقا نے کھڑکی کا نصف حصہ اس لئے بند کروا دیا تھا کہ ہمارے ہاتھ اس کی روٹی میں سے...
شکار کی اصطلاح میں ‘آدم خور’ اس شیر یا چیتے کو کہا جاتا ہے جو دوسرے جانوروں کو چھوڑ کر صرف آدمی کے گوشت پر گزارا کرتا ہے۔ یہ قیاس کرنا بھی صحیح نہیں کہ تمام شیر اور چیتے آدم خور ہوتے ہیں۔ فطری طور پر یہ درندے انسان سے خوف کھاتے ہیں اور اس وقت حملہ کرتے ہیں جب انہیں چھیڑا یا ستایا جائے، لیکن ایک مرتبہ آدمی کا خون مُنہ کو لگ جائے تو پھر زندگی کے آخری لمحے تک انسان کا پیچھا نہیں چھوڑتے۔ بعض شیر بوڑھے...
یہ ایک وحشی اور پاگل ہاتھی کی داستان ہے، جس کے بارے میں آج تک یہ پتہ چل سکا کہ وہ اچانک اِنسانی جانوں کا کیوں دشمن بن گیا تھا اور وہ کون سا حادثہ تھا جس نے اس ہاتھی کو اس قدر مشتعل کر دیا کہ وہ بے دریغ انسانوں کو ہلاک کرتا رہا۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ حکومتِ ہند بھی اِس قاتل ہاتھی کے مظالم کی روک تھام پر مجبور ہوگئی۔ یہ تقسیمِ ہند سے بہت پہلے کا قِصّہ ہے اور جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے۔...
یہ ایک بہت بڑے اور سیاہ ریچھ کا قِصّہ ہے جس کی خونخواری اور بربریّت کی دہشت عرصہ دراز تک لوگوں کے دلوں میں بیٹھی رہی۔ جنگل کے تمام حیوانات میں ریچھ واحد جانور ہے جو محض اپنی تفریح طبع کے لیے دوسرے جانوروں اور آدمیوں کو ہلاک کرتا ہے۔ نہایت کینہ پرور، جلد اشتعال میں آنے والا اور انتہائی ناقابلِ اعتماد حیوان ہے۔ حافظے کے اعتبار سے اس کا ذہن ایک عجوبہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ یہ اپنے دشمن کا کبھی پیچھا نہیں چھوڑتا۔ اسے خوب یاد...
میں اور میری بیوی ہلڈا جب جزیرہ نومو سے لوٹے تو ملازم نے کپتان چی کی طرف سے میرے نام آیا ہوا رقعہ دکھلایا، جس میں درج تھا کہ میں اس سے فوراً ملوں۔ بے چارہ ایک بھاری مصیبت میں مبتلا ہو گیا تھا۔ وہ کینیا کے محکمہ سیر و شکار کا انچارج تھا اور آئے دن کسی نہ کسی جان لیوا چکّر میں پھنس جاتا تھا۔ میں اس کے پاس گیا تو اس نے بتایا کہ مپسن فال کے علاقے میں جنگلی بھینسوں کے گروہ نے آفت مچا رکھی...
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب میں دریا میں گرا، تو مجھے یوں محسوس ہوا جیسے کسی نادیدہ قوت نے مجھے پانی میں دھکیل دیا ہے۔ میرا جسم ایک دم سن ہو گیا۔ اور ہوش و حواس رخصت ہو گئے۔ میں نے بمشکل اپنے اوسان بحال کیے۔ دراصل یہ حادثہ ایسا فوری تھا کہ پانی میں گرنے سے اپنے آپ کو بچا نہ سکا، ورنہ مجھ جیسا تجربہ کار اور مشّاق شکاری یوں بچوں کی طرح پانی میں گر جائے، قطعی ناممکن بات ہے۔ وہ موذی مگرمچھ، جس کا...
میں برآمدے میں کرسی پر بیٹھا ہوا نارنگیوں سے بھرے ہوئے درختوں کو دیکھنے میں محو تھا۔ فروری کا مہینہ تھا۔ لیکن مدھیہ پردیش میں موسم یکایک تبدیل ہو رہا تھا۔ گرمی کی آمد آمد تھی۔ کمرے میں سخت حبس تھا۔ یہاں عموماً حبس بارش کی آمد کا پیش خیمہ ہوتا ہے اور واقعی تھوڑی دیر بعد ہی آسمان پر سیاہ گھٹا چھا گئی اور بادل گرجنے لگے۔ مگر میں اس منظر سے بے پروا خدا جانے کیوں اس روز خوش رنگ نارنگیوں کو دیکھنے میں محو تھا۔ یکایک میرا...
سوانی پلی کا جنگل سیر و تفریح اور شکار کے لیے ہمیشہ سے میری پسندیدہ جگہ رہا ہے۔ مجھے ایک پیشہ ور شکاری کی حیثیت میں دنیا کے اکثر جنگلوں میں گھومنے اتفاق ہوا ہے۔ افریقہ، ایشیا اور یورپ کے بے شمار چھوٹے بڑے جنگل سبھی میری نظر میں ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ سوانی پلی کا چھوٹا سا خوب صورت جنگل میں کبھی نہیں بھول سکوں گا۔ اس کا مناسب محلِ وقوع، اس کی خوشگوار اور فرحت بخش آب و ہوا۔ شہر بنگلور سے اس کا قرب، سرسبز...
© 2020 کیف ادب -
© 2020 کیف ادب -